کوہِ ملال سے اُمڈتے سایے : کتاب سعید شارق / تاثر : توقیر رضا
کوہِ ملال سے امڈتے سایے
کتاب : کوہِ ملال | شاعر : سعید شارق
لکھت و انتخاب : توقیر رضا
—
میں کبھی ہنستا کھیلتا بھی تھا
ایک تصویر سے روایت ہے
(سایہ )
شام ہونے تک چلا جائے گا وہ
ختم ہو جائے گی دنیا شام تک
(سایہ )
مرے اوپر گری تھیں تیرے خوابوں کی فصیلیں
گری ہوں گی ، مگر تب تُو ! وہاں کیا کر رہا تھا؟
(سایہ )
غزل کی کتاب “ سایہ “ سے ادبی دنیا میں جگہ بنانے والے دوست سعید شارق کا شعری سفر اپنے رنگ ڈھنگ میں رواں دواں ہے اور کوہِ ملال ان کا دوسرا پڑاو ہے ان کے اس مجموعے میں وہی سنجیدگی قائم و دائم ہے جو “ سایہ “ میں محسوس ہوئی تھی وہ اپنے ہم عصر غزل گو شعرا میں اسی بنیادی فرق سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ان کے اشعار یک پرتی نہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ شعر ! محض وائرل ہونے اور چونکانے کے لیے کہا جائے بلکہ شعر ان کی ذات کا مسئلہ محسوس ہوتا ہے۔۔ نہ وہ پرانا دھرانا رومانٹسزم ہی سعید کے ہاں دِکھتا ہے جس کی موت ہوئے بھی مغرب میں ڈیڑھ پونے دو سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ۔ جہاں آج اس درجہ کمتر رومانٹسزم کی مثالیں نئے شعرا کے ہاں دیکھنے کو ملتی ہیں وہیں سعید کا رستہ بہت الگ اور واضح ہے۔ ان کے دونوں مجموعوں کی فضا میں اک خاص اسلوب اور طرز جاری و ساری ہے اک طرح کا اشاروں ، کنایوں ، علامتوں میں بندھا اکثر استفہامیہ انداز جس میں سرئیلسٹک امیجز ہیں ، ذات کی گہرائی ہے خوابوں کی سی جادوئی دنیا ہے سوال ہیں جواب ہیں بیشتر خودکلامی ہے۔ اور سرئیل Surreal فضا تو غزل میں کم کم دیکھنے کو ملتی ہے یہ اساطیری دنیا سے الگ دنیا ہے لوگ اکثر اسے گڈ مڈ کرتے ہیں یہ فرق سمجھنے کے لیے بھی آپ سعید شارق کی شاعری ضرور پڑھیں ۔ ہاں ایسی شاعری میں اک مسئلہ کرافٹ کا درپیش آتا ہے کہ پیچیدہ اور ان چھوئے امیجز کی منبت کاری شعر کو بوجھل کر سکتی ہے جو غزل جیسی نازک صنف سخن کے لیے خود اک راہ کا پتھر ہے لیکن ہنر کے ساتھ یہ پتھر موم کیا جا سکتا ہے مزید یہ کہ سرئیل تھاٹس شعر میں ڈھالنے کو اک خاص طرح کی لفظیات اور تلازمات کا دروبست چاہیے جو سعید شارق کے ہاں فراواں ہے ان کا مقصد چونکانا نہیں بلکہ ان کے اسلوب میں ڈیپتھ ہے اور یہ گہرا ہونا ہی سعید شارق کا معاصر غزل گو شعرا میں امتیاز ہے
یوں ہی جمتی نہیں جاتی ہے یہ کائی ، شارق
کسے معلوم مِرا مسئلہ گہرائی ہے
کلاسیک کے بعد اردو غزل گو شعرا کے ساتھ یہ المیہ رہا کہ یہ دنیا کو بڑی آنکھ سے نہیں دیکھ پائے جو کہ نظم گو دکھانے کی طرف متوجہ تھا خود دو بڑے غزل گووں میر و غالب کے بعد اقبال جیسے شاعر کا نظم کی طرف آنا اسی وجہ سے تھا
پہلے پھر کچھ بہتر صورت حال تھی اک دو نسل پیچھے دیکھیں تو غزل میں یہ کٹھن مرحلہ کچھ شعرا ادریس بابر ، کاشف حسین غائر ، شاہد ذکی ، فیصل ہاشمی ، فیصل عجمی ، اختر عثمان و دیگر نے کامیابی اور سلیقے سے طے کیا اور ان سے پہلے شکیب جلالی ، ناصر کاظمی ،احمد مشتاق ، ثروت حسین ، جمال احسانی ، غلام محمد قاصر ، جون ایلیا ،رام ریاض ، اقبال ساجد اور ظفر اقبال و دیگر نے غزل کی روایت کو جِلا بخشی اور شاندار اضافے کیے لیکن آج کے نوجوان شعرا تک آتے آتے غزل اس قدر ابتر ہوئی کہ بتائے نہ بنے ، جو بتائیں تو منہ چھپائے نہ بنے ۔۔ یعنی شاعری تو اک طرف شعرا کے امیج کو سخت ٹھیس پہنچی ان کا مذاق اڑایا گیا اس کے بر عکس نظم کے شاعر کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ اسٹیج اور مشاعرہ اس کا مسئلہ نہیں بنا آج سنجیدہ غزل گو شعرا کو اس کا حل بھی تلاشنا ہو گا کہ اس صورت حال سے کیسے نپٹیں ۔۔ بقول جوزف براڈسکی ؛
Anyone who regards poetry as an entertainment, as "a read", commits an anthropological crime, in the first place, against himself۔۔۔
Joseph Brodsky
جی تو اس حسین صنفِ سخن کو محض مصرعہ سازی کا ہنر بنا دیا گیا جس میں ہر بات ہوگی لیکن شعریت ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی اس صنف کو آسان سمجھ کر بہت بڑی غلطی کی گئی یہ بہت مشکل صنف ہے اس پہ مستزاد یہ کہ غزل کے سامع زیادہ ہیں اور سنجیدہ قاری کم ! یہ بجائے خود اک المیہ ہے خیر اس صنفِ سخن کو اگر سعید شارق جیسے سنجیدہ فکر غزل گو ملتے رہے جیسے ہر عہد میں ملتے آئے ہیں تو غزل پر قاری کا اعتماد بحال رہے گا اگرچہ غزل نئے عہد کا مافی الضمیر کماحقہ بیان کرنے سے قاصر ہے پھر بھی یہ ایسے شعرا کی کاوشوں سے ہی ممکن ہوتا آیا ہے جنہوں نے ہر عہد میں کمرشل تخلیق کاروں کے سامنے فن کی حرمت کو زندہ رکھا اور کتاب کی اہمیت کو بڑھایا ، اک ذمہ دار تخلیق کار کی طرح کائنات کو ہر پہلو سے دیکھا مشاہدے اور تجربے سے گزر کر شاعری کی ہم ایسے تخلیق کاروں کی تعریف میں جتنا کہیں لکھیں بولیں کم ہے — یوں تو تبصرہ اور انتخاب کبھی بھی کامل نہیں ہوتا کہ اک شخص کی نظر اور پسند پر مبنی ہوتا ہے بہرکیف کوہِ ملال سے انتخاب پیشِ خدمت ہے
اک گھڑے میں بچ گئے تھے یاد کے دوچار گھونٹ
کوئی کوّا مجھ میں اترا اور کنکر بھر گیا
رات بھر کروٹ بدلتی رہ گئی اس کی کمی
دیکھتے ہی دیکھتے شکنوں سے بستر بھر گیا
-
وہ حویلی ہوں جو آباد نہیں ہو پائی
گرچہ ہر سمت ہی سے کوئی گلی لگتی ہے
دوسرے رنگ نظر ہی نہیں آتے مجھ کو
زرد ایسا ہوں کہ ہر چیز ہری لگتی ہے
اب کُھلا مجھ پہ کہ خود مصرعِ بے وزن ہوں میں
اور مجھے دوسرے مصرع میں کمی لگتی ہے
مَیں اکیلا ، اسی زندان میں خوش رہ لیتا
تجھ کو دیکھوں تو سزا اور کڑی لگتی ہے
-
دیکھ شہزادی ! اک تیرے ہونٹوں کی جنبش سے کیا بن گیا
میں جو اب تک فقط عام سا شخص تھا ، دیوتا بن گیا
آخرکار چِپکا لیے اپنی شاخوں سے مصنوعی پھول
سب ہرے ہو چکے تھے سو کیا کرتا ؟ مَیں بھی ہرا بن گیا
جانے کب کوئی نادیدہ خامہ مجھے دفعتاً کاٹ دے
ایسا لگتا ہے جیسے مرے گِرد ببی دائرہ بن گیا
غور سے دیکھنے پر کُھلا خواب اب تک مکمل نہیں
میں خوشی سے یونہی چیختا رہ گیا ، بن گیا ! بن گیا !
-
خود ہی پُھوٹا مری اندر سے کوئی بیج کہیں
اور پھر مجھ میں اداسی کی جڑیں پھیل گئیں
ہاتھ مَلتے ہوئے رہ جائیں گی رستے شارق
وہ کہیں اور چلا جائے گا مَیں اور کہیں
-
مجھ آئنے سے روشنی آ کر چپک گئی
زنگار کیا لگا ! مِری قسمت چمک گئی
ٹھہروں گا راہِ زیست کے اک اک پڑاو پر
جاوں گا ساتھ ساتھ ، جہاں تک سڑک گئی
کِھل اُٹھے ایک آن میں کچھ زخم اور خواب
گِرتے ہی پھول ، شاخ زیادہ مہک گئی
-
میں ایک آبِ پراسرار سے بھرا برتن
کسی کی پیاس جسے خامشی سے ڈھکتی ہے
-
ہجر کی دُھن پر مسلسل رقص کرواتا رہا
تھک گئی تنہائی ، میں گاتا رہا ، گاتا رہا
قافلہ کوئی بھی ہو ، گو راستا کوئی بھی ہو
اک وہی رہ گیر آ کر مجھ سے ٹکراتا رہا
کام ایسا تھا کہ خاصا تجربہ درکار تھا
اور مَیں اندھوں سے اپنی آنکھیں بنواتا رہا
-
ہم دونوں اپنے اپنے معانی بدل چکے
کیا شعر تھا ! جو آپ ہی دولخت ہو گیا
-
در و دیوار سے وہ شکل اُبھر آئی ہے
کون سا ہجر ہے ! یہ کون سی تنہائی ہے
-
ہر مسافر کا ہم سفر ہونا
کتنا مشکل ہے رہ گزر ہونا
ایک تو لرنا باد و باراں سے
اور پِھر خشک شاخ پر ہونا
-
دوبارا ہجر سے دوچار کیسے ہو گیا ہوں
مَیں سویا ہی نہیں، بیدار کیسے ہو گیا ہوں
دِکھا کب دستخط تُو نے کیے اور کس ورَق پر ؟
بتا ! اس رنج کا حق دار کیسے ہو گیا ہوں
-
میری بلا سے ہو کوئی دَر پر ، نہیں ہوں مَیں
ویسے تو گھر ہوں آج ، مگر گھر نہیں ہوں میں
دل میں جزیرہ بھی ہے ، خزانہ بھی ، ناؤ بھی
یہ اور بات ہے کہ سمندر نہیں ہوں میں
ہے سامنا عجیب مساوات کا مجھے
تنہائی جمع یاد ، برابر : نہیں ہوں مَیں
-
وقت کٹ جانے کی رفتار بڑھی ہے کہ نہیں
یہ بتانے کے لیے کوئی گھڑی ہے کہ نہیں؟
شور سے محض خموشی ہی نہ ٹوٹی ہو گی
جانے کمرے میں کوئی چیز بچی ہے کہ نہیں
پیڑ کے کان میں اک بات کہی تھی مَیں نے
پھول بکھرے کہ نہیں ! شاخ کٹی ہے کہ نہیں
جلتا رہتا ہے ہمہ وقت مرے دل کا چراغ
کیسے معلوم پڑے رات ڈھلی ہے کہ نہیں
سبھی دروازے ہیں اندر سے مقفل ، شارق
کون دیکھے ! کہ مکانوں میں کوئی ہے کہ نہیں
۔۔
کٹتی ہے رات ، خواب کے ہمراہ جاگ کر
دن بسترِ ملال پہ سو کر گزرتا ہے
ہر سال شہرِ دل سے گزرتا ہے کوئی سَیل
اور ایک ایک گھر کو ڈبو کر گزرتا ہے
-
ایسے چلے مکاں کہ گلی کو بھی شک نہ ہو
اور واپس آنا چاہے تو کوئی سڑک نہ ہو
اک زخم ہے ، جو دے نہیں پاتا کسک مجھے
جس طرح پُھول ہو مگر اس کی مہک نہ ہو
-
ایک لمحے کو رکی اور یونہی چاٹ گئی
کتنی باتیں تھیں جنہیں تیری ہنسی چوٹ گئی
آدھے آدھے ہیں ہم اب اور پڑے سوچتے ہیں
کس کی موجودگی کو کو کس کی کمی چاٹ گئی
-
خود بہ خود جمتی ہوئی کائی سے ڈر لگتا تھا
پہلے پہلے مجھت تنہائی سے ڈر لگتا تھا
دیکھ آ پہنچا ہوں کا طرح سرِ کوہِ ملال
مَیں وہی ہوں ، جسے اونچائی سے ڈر لگتا تھا
آخرِ کار مری ذات کا اک گوشہ بنا
مجھ کو جس دشت کی پہنائی سے ڈر لگتا تھا
—
کس قدر رستے میں ہوں گے ، کس قدر گھر آئیں گے
جانے اک دوجے کو ہم کتنے میسر آئیں گے
اس لیے خود راہ دے دیتا ہوں اب سایوں جو مَیں
رہ نہیں دوں گا تو دیواروں سے اندر آئیں گے
کیا ہے گر چمگادڑوں کا غول مجھ میں آ بسا
ایسے اندھے غار میں کیا اب کبوتر آئیں گے
—
جب کہیں بھی نہ رہے کچھ تو خلا بنتا ہے
مَیں بھی اندر سے ۔۔ مگر دیکھیے ! کیا بنتا ہے
—
ہجر کے دشت میں گیا ، آب و ہوا بدل گئی
پانی بدل گیا مرا ، میری غذا بدل گئی
مصرعِ زندگی میں ہو کیوں نہ شکستِ ناروا ؟
میری جگہ بدل گئی ! تیری جگہ بدل گئی
—
اور بھی جگمگا رہی ہے مجھے
شب ، ستارا بنا رہی ہے مجھے
کُھلتے جاتے ہیں زخم کے ٹانکے
زندگی گُدگُدا رہی ہے مجھے
—
ہم دو تھے اور ایک نشستِ ملال تھی
وہ اٹھ کے چل دیا تو مجھے بھی جگہ ملی
سچ ہے کوئی بھی شے نہیں خالص رہی یہاں
اب خامشی بھی ملتی ہے مجھ کو ، صدا مِلی
—
یونہی لڑتے رہے لمحوں کی کمی بیشی پر
وقت اپنا تھا کسی کا نہ گھڑی اپنی تھی
—
دفعتاً گال پہ اک بوند گری ، ٹوٹ گئی
کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئی
بار ایسا ہے کپ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے
لاکھ کہتا ہوں کمر ٹوٹ گئی ، ٹوٹ گئی
—
بچائے دھوپ کے ٹکڑے ذرا ذرا مَیں نے
اور اپنا سایا دوبارہ بنا لیا مَیں نے
جُھلستا جاتا ہوں اب دیکھ دیکھ کر اُس کو
جلا دیا تھا سرِ شام جو دِیا مَیں نے
پڑے ہوئی تھے مرے پیچھے کب سے ہم دونوں
سو مجھ کو مار دیا ہو گا اُس نے یا مَیں نے
—
چراغ تکتے ہوئے ایک دوسرے کا منہ
ہم اپنے اپنے اندھیرے میں ڈوب جاتے ہوئے
—
میری بجھتی ہوئی آنکھوں پہ نظر کون رکھے
چاند روشن ہے ، چراغوں کی خبر کون رکھے
—
اچھا ! اچھا ! چلا جاوں گا ، فقط اک دستک
خواب ہو سکتا ہوں ، اتنا تو بتا جاوں میں
کیا خبر ! کب اسی ویرانے میں آنا پڑ جائے
رُک ! ذرا ، کوئی نشانی تو لگا جاوں میں
—
دیکھ ! دفتر میں ہوں ، کام کا وقت ہے
یاد آنے کا یہ کون سا وقت ہے
میرے قدموں تلے دشتِ فردا کی دھول
میری گٹھڑی میں گزرا ہوا وقت ہے
وقت کیسے کٹے ؟ زخم کیسے بھرے ؟
زخم ! نازخم ہے ، وقت ! ناوقت ہے
جانے کب خود کو بھی وقت دے پاوں گا
خیر ! تیرے لیے وقت تھا ، وقت ہے
اِس جگہ تو زماں کا تصور نہیں
تُو جہاں ہے ، وہاں جانے کیا وقت ہے
—
پھر بھی میں وقت کے دریا میں نہیں ڈوب سکا
پُل سے کودا ، کبھی خود ناؤ میں پتھر رکھے
دونوں آنکھوں کو دکھانا پڑے اک جیسے خواب
بے توازن ہوں مگر پلڑے برابر رکھے
—
بھاگتے بھاگتے تکتا ہوں وہیں ، مُڑ مُڑ کر
میرے پیچھے نہ مِرا رختِ سفر لگ جائے
یونہی اُڑتا پِھروں اپنی ہی فضا میں ، شارق
ایک ٹُوٹے تو وہیں دوسرا پَر لگ جائے
Comments
Post a Comment